August 28, 2026

لاہور پولیس ٹارگٹ کلنگ کیس میں بڑا موڑ، باپ بیٹا مبینہ حملہ آور پولیس مقابلے میں ہلاک

0
ٹارگٹ کلنگ
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بولے پاکستان نیوز ڈیسک – لاہور میں تین پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ پولیس کے مطابق اہلکاروں کو نشانہ بنانے  میں ملوث مبینہ ملزمان میں سے باپ بیٹے کو مریدکے کے قریب پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا، جبکہ ایک تیسرا مشتبہ شخص فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق باپ بیٹے تک پہنچنے کے لیے کئی گھنٹوں تک کارروائی اور تعاقب جاری رہا، جس کے بعد مریڈکے کے علاقے میں مبینہ ملزمان اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں دونوں مشتبہ افراد مارے گئے۔

یہ کارروائی لاہور میں پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ واقعے نے شہر میں پولیس اہلکاروں کی سیکیورٹی اور جرائم پیشہ عناصر کی کارروائیوں کے حوالے سے تشویش پیدا کردی تھی۔

تیسرا مشتبہ شخص فرار

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ایک تیسرا مشتبہ شخص موقع سے فرار ہوگیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کی گرفتاری کے لیے تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور مختلف مقامات پر ممکنہ ٹھکانوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر کس طرح نشانہ بنایا اور اس کارروائی کی منصوبہ بندی کہاں کی گئی تھی۔

گاڑی نے تفتیش میں اہم کردار ادا کیا

رپورٹس کے مطابق مبینہ ملزمان کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے میں ایک سرکاری گاڑی میں نصب ٹریکر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے گاڑی اور اس کے ڈرائیور کو مریڈکے کے قریب چھوڑ دیا تھا، جس کے بعد تفتیش کاروں نے گاڑی کی نقل و حرکت سے حاصل ہونے والی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے مشتبہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کی۔

تحقیقاتی کارروائی کے دوران ایک مشتبہ شخص کے گھر سے دستی بم سمیت دیگر شواہد ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم اس حوالے سے مزید شواہد اور فرانزک تحقیقات مکمل ہونا باقی ہیں۔

پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا معاملہ

لاہور میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت نے سیکیورٹی اداروں کے لیے کئی سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔ پولیس حکام کی جانب سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملے کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے اور مبینہ ملزمان کے ساتھ مزید کون لوگ رابطے میں تھے۔

تفتیش کار مبینہ سہولت کاروں اور دیگر ممکنہ رابطوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ حکام کی کوشش ہے کہ فرار ہونے والے تیسرے مشتبہ شخص کو گرفتار کرکے واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے۔

تفتیش ابھی مکمل نہیں ہوئی

پولیس مقابلے میں دو مشتبہ افراد کی ہلاکت کے باوجود کیس کی تحقیقات ختم نہیں ہوئی ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں مبینہ نیٹ ورک، سہولت کاروں، حملے کی منصوبہ بندی اور دیگر ممکنہ شواہد کا جائزہ لے رہی ہیں۔

حکام کے مطابق تیسرے مشتبہ شخص کی گرفتاری اور فرانزک شواہد کی تکمیل کے بعد واقعے کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *